اسلام آباد: سپریم کورٹ نے کاغذات نامزدگی فارم کے حلف نامے کی شق ‘این’ ایک کے تحت امیدواروں کو اپنی کارکردگی بتانا لازم قرار دیا تھا لیکن فارم میں امیدواروں نے ایک سے بڑھ کر ایک دلچسپ کارنامہ بتایا جس کی بنیاد پر ریٹرننگ افسران نے ان کے فارم مسترد کیے۔جسٹس محسن اختر کیانی پر مشتمل اسلام آباد کے ایپلٹ ٹریبونل نے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کے خلاف سماعت کی، اس موقع پر فاضل جج نامزدگی فارم مسترد ہونے والوں کے جوابات پڑھ کر مسکرانے پر مجبور ہوگئے۔کاغذات نامزدگی فارم کی شق ‘این’ میں امیدوار کو بتانا تھا کہ آپ نے اپنے حلقے کے عوام کی فلاح و بہبود کیلئے کیا کام کیے جس پر ایک امیدوار نے لکھا کہ انہوں نے دوسری شادی نہیں کی۔جسٹس محسن اختر کیانی نے الیکشن کمیشن کے نمائندوں سے استفسار کیا کہ یہ فارم انگریزی میں ہی تھا یا اردو میں بھی جاری کیا گیا۔
مقبول خبریں
تازہ ترین
- مودی سرکار کے کھوکھلے دعوے اور آپریشن سندور کی حقیقت
- پاکستان میں حالیہ سیلاب کو بھارتی آبی جارحیت نہیں کہہ سکتا، خواجہ آصف
- آرمی چیف جنرل جنرل سید عاصم منیر کی زیر صدارت جی ایچ کیو میں دو روزہ 84ویں فارمیشن کمانڈرز کانفرنس
- آزاد کشمیر میں ایکشن کمیٹی کی کال پر شٹرڈائون،پہیہ جام ہڑتال
- دوسرا ٹی 20: پاکستان کی تباہ کن باؤلنگ, زمبابوے کو 10 وکٹوں سے ہرا کر سیریز جیت لی.
مزید پڑھیں
Load/Hide Comments






